اسلام آباد: ترلائی امام بارگاہ پر خوفناک خودکش دھماکہ — درجنوں شہید و زخمی
اسلام آباد (پاکستان) — جمعہ 6 فروری 2026 کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی کلان میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ پر ایک طاقتور خودکش دھماکہ ہوا، جس نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ دھماکے کی آواز دور-دور تک سنی گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے تک ٹوٹ گئے۔
دھماکے کا واقعہ
یہ دھماکہ جمعہ کی نماز کے دوران اس مقدس مقام پر پیش آیا، جب سیکڑوں افراد عبادت کے لیے موجود تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور کو امام بارگاہ کے دروازے پر روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن اس نے وہیں خود کو دھماکہ سے اڑا لیا، جس کے باعث شدید انسانی نقصان ہوا۔
جانی و جسمانی نقصان
مختصر مدت میں مختلف ذرائع اور حکومتی حکام کے مطابق:
-
کم از کم 31 افراد شہید اور 169 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ زخمیوں میں کئی کی حالت تشویشناک ہے۔
-
کچھ ابتدائی رپورٹس میں تعداد مختلف بتائی گئی، جس میں 15 تا 24 شہداء اور 80 تا 170 زخمیوں تک کا ذکر بھی شامل ہے، تاہم مجموعی طور پر واقعے کی شدت اور نقصان واضح ہے۔
-
زخمیوں کو PIMS، Polyclinic، CDA ہسپتال سمیت دیگر طبی اداروں میں ایمرجنسی نافذ کرکے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
حکومت اور سکیورٹی کا ردِ عمل
دھماکے کے فوراً بعد:
-
اسلام آباد پولیس نے علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا اور انسداد دہشتگردی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔
-
وفاقی اور صوبائی قائدین نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور سانحے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔
-
شہر بھر میں ہنگامی سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
تحقیقات اور ممکنہ ذمہ دار
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی ذرائع دھماکے کو خودکش حملہ قرار دے رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حملہ آور نے بارگاہ کے دروازے پر ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
ابھی تک کسی تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، لیکن پاکستان میں ماضی میں فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی کے واقعات عام رہے ہیں، اور تحقیقاتی ادارے جڑ تک پہنچنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
عوامی ردِ عمل
یہ واقعہ نہ صرف اسلام آباد بلکہ پورے ملک میں شدید غم و غوص اور احتجاج کا سبب بنا ہے۔ سوشل میڈیا، نیوز چینلز اور عوامی حلقوں میں سانحے کی مذمت اور متاثرین کے اہلخانہ کے لیے دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔
